Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

والدین كی فرياد

میرے بچو... اگر تم ہمیں بڑھاپے کے حال میں دیکھو اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو مشکل ماہ و سال میں دیکھو! صبر کا دامن تھامے رکھن...



میرے بچو...

اگر تم ہمیں بڑھاپے کے حال میں دیکھو
اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو
مشکل ماہ و سال میں دیکھو!
صبر کا دامن تھامے رکھنا
کڑوا ہے یہ گھونٹ پر چکھنا
"اُف" نہ کہنا، غصے کا اظہار نہ کرنا
ہمارے دل پر وار نہ کرنا!
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 ہاتھ ہمارے گر کمزوری سے کانپ اٹھیں
اور کھانا،ہم پر گر جائے تو
ہمیں نفرت سے مت تکنا، لہجے کو بیزار نہ کرنا!
 بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا
جب تم کھانا ہمارے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے
ہم تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتے تھے!
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دیں یا تھک جائیں
ہمیں سُست اور کاہل کہہ کر، اور ہمیں بیمار نہ کرنا!
 بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتے تھے
اک اک دن میں دس دس بار بدلواتے تھے!
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 ہمارے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں
ہمارا ہاتھ پکڑ لینا تم، تیز اپنی رفتار نہ کرنا!
 بھول نہ جانا، ہماری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا
ہماری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا!

رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 جب ہم باتیں کرتے کرتے رُک جائیں ، خود کو دھرائیں
ٹوٹا ربط پکڑ نہ پائیں، یادِ ماضی میں کھو جائیں
آسانی سے سمجھ نہ پائیں!
 ہمیں  نرمی سے سمجھانا
ہم سے مت بے کار اُلجھنا،
اکتا کر، گھبرا کر ہمیں ڈانٹ نہ دینا
دل کے کانچ کو پتھر مار کے
کرچی کرچی بانٹ نہ دینا
بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے
ایک کہانی سو سو بار سنا کرتے تھے
اور ہم کتنی چاہت سے ہر بار سنایا کرتے تھے
جو کچھ دھرانے کو کہتے، ہم دھرایا کرتے تھے.
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 اگر نہانے میں ہم سے سُستی ہو جائے
ہمیں شرمندہ مت کرنا، یہ نہ کہنا آپ سے کتنی بُو آتی ہے!
 بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے اور نہانے سے چڑتے تھے
تم کو نہلانے کی خاطر چڑیا گھر لے جانے میں تم سے وعدہ کرتے تھے
کیسے کیسے حیلوں سے تم کو آمادہ کرتے تھے
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 گر ہم جلدی سمجھ نہ پائیں، وقت سے کچھ پیچھے رہ جائیں
ہم پر حیرت سے مت ہنسنا، اور کوئی فقرہ نہ کسنا
ہمیں کچھ مہلت دے دینا
شائد ہم کچھ سیکھ سکیں
بھول نہ جانا❗
 ہم نے برسوں محنت کر کے تم کو کیا کیا سکھلایا تھا
کھانا پینا، چلنا پھرنا، ملنا جلنا، لکھنا پڑھنا
اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس دنیا کی، آگے بڑھنا!
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 ہماری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اٹھو تو
ہمیں تم جھڑکی نہ دینا
یہ نہ کہنا، جانے دن بھر کیا کیا کھاتے رہتے ہیں
اور راتوں کو کُھوں کھوں کر کے شور مچاتے رہتے ہیں!
 بھول نہ جانا ہم نے کتنی لمبی راتیں
تم کو اپنی گود میں لے کر
ٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں❗
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 گر ہم کھانا نہ کھائیں تو تم ہمیں  کو مجبور نہ کرنا
جس شے کو جی چاہے ہمارا، اس کو ہم سے دور نہ کرنا
پرہیزوں کی آڑ میں ہر پل ہمارا دل رنجور نہ کرنا
کس کا فرض ہے ہمیں رکھنا
اس بارے میں اک دوجے سے
بحث نہ کرنا❗
 آپس میں بے کار نہ لڑنا
جس کو کچھ مجبوری ہو اس  پر الزام نہ دھرنا!
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 گر ہم اک دن کہہ دیں، اب جینے کی چاہ نہیں ہے
یونہی بوجھ بنے بیٹھے ہیں کوئی بھی ہمراہ نہیں ہے
 تم ہم پر ناراض نہ ہونا
جیون کا یہ راز سمجھنا
برسوں جیتے جیتے آخر ایسے دن بھی آ جاتے ہیں
جب جیون کی روح تو رخصت ہو جاتی ہے
سانس کی ڈوری رہ جاتی ہے!
شائد کل تم جان سکو گے، اور ہمیں پہچان سکو گے
گرچہ جیون کی اس دوڑ میں، ہم نے سب کچھ ہار دیا ہے
لیکن، ہمارے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے
تم کو سچا پیار دیا ہے❗
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 جب ہم مر جائیں  تو ہمیں
ہمارے پیارے رب کی جانب
چپکے سے سرکا دینا
اور، دعا کی خاطر
ہاتھ اُٹھا دینا❗
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 ہمارے پیارے رب سے کہنا،
رحم ہمارے والدین پر کر دے
جیسے انہوں نے بچپن میں
ہم کمزوروں پر رحم کیا تھا
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
بھول نہ جانا، میرے بچو❗
جب تک ہم میں جان تھی باقی❗
خون رگوں میں دوڑ رہا تھا❗
دل سینے میں دھڑک رہا تھا❗
خیر تمہاری مانگی ہم نے❗
ہمارا ہر اک سانس دعا تھا❗
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
 قالَ اللهُ تعالی 
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا • اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ "اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے"
 الإسراء: 23-24
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا