ذرا دھیرے سے تم چلنا
کہ یہ تو آبگینے ہیں..
کہ یہ وہ آبگینے ہیں
کہ جو گھر بھر کی زینت بھی
کبھی ہو پیاس کی شدت
تو یہ پانی پلاتے ہیں

کبھی سورج کی ہو حدت
تو یہ سایہ بناتے ہیں..
 
یہ ہیں آنگن کے تارے جو
ہمیشہ جگمگاتے ہیں

مکاں کو گھر بناتے ہیں
انھی میں وہ قرینے ہیں 

کہ یہ تو آبگینے ہیں
یہی آنکھوں کی ہیں ٹھنڈک
یہی ٹھنڈک بھی راحت بھی

انھی سے رونق محفل
انھی سے حرمت محمل
بھری شاداب دنیا میں
یہی سرسبز اک حاصل
یہی جنت کے زینے ہیں... 

کہ یہ ہے ماں,یہی بیٹی,یہی بہنا
یہی ہے ہاتھ کا گہنا
محاذوں پر جو نکلو تو
یہی پیروں کی بیڑی بھی..
بنی پسلی سے ہے یہ
اسلیے تھوڑی سی ٹیڑھی بھی..

مگر تم توڑ مت دینا..
انھیں مستور ہی رکھنا
کہ عصمت کے نگینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں..
کبھی سوچا بھی ہے تم نے
یہ کتنا دکھ اٹھاتی ہیں..
تمہاری زندگی کو
کسطرح شاداب بناتی ہیں..

تمھاری راہ کے کانٹے
یہ چن لیتی ہیں پلکوں سے.
سفر آساں بناتی ہیں
سنورجائیں اگر
اک نسل کا ایماں بناتی ہیں
پھر ان معصوم کلیوں کو
یہی عائشہ ,یہی عبدالرحمن بناتی ہیں
انھی میں وہ قرینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں....

Post A Comment: