نوجوان نے دکان میں داخل ہو کر، دکاندار کے سامنے بنے کاؤنٹر پر رکھے مرتبان سے ایک ٹافی نکال کر منہ میں ڈالی، جیب سے ایک روپے کا سکہ نکال کر دکاندار بابا جی کو دیا تو سستی سے بیٹھے اونگھتے ہوئے بابے نے مسکرا کر دو انگلیاں اٹھائیں اور نوجوان کو وکٹری کا نشان بنا کر دکھایا۔
نوجوان بابا جی کی زندہ دلی سے بہت متاثر ہوا اور اس نے بھی ہاتھ کھڑا کر کے دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا کر بابا جی کو مسکراتے ہوئے کہا:
بابا جی، جیوندے رہو، مولا خوش رکھے تے وسدا رہوے ساڈا سوہنا دیس۔
بابے نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے نوجوان سے کہا:
پتر اوئے، قلندری دھمال نا ڈال، اس طرح سمجھ نہیں آتی تو سن، ٹافی دو روپے کی ہے، ایک روپیہ اور نکال۔

Post A Comment: