Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

کچھ دوستوں کا احوال سناتا ہوں

‫ پچھلے سال فروری میں مجھے ایک دوست کی دعوت پر سرگودھا جانے کا اتفاق ہوا۔ دعوت بھی خاص الخاص مالٹوں کی تھی۔ جو لوگ سرگودھا گئے ہیں وہ جانتے...


پچھلے سال فروری میں مجھے ایک دوست کی دعوت پر سرگودھا جانے کا اتفاق ہوا۔ دعوت بھی خاص الخاص مالٹوں کی تھی۔ جو لوگ سرگودھا گئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ فروری کے مہینہ میں سرگودھاجنت کا نمونہ ہوتا ہے۔ حد نگاہ تک پھیلے مالٹون کے باغات۔ سڑکوں کے کنارے میلوں ساتھ چلتے گنے کے کھیت اور خال خال امرود وں کے باغات بہت ہی دل کش مناظر تھے۔ ہم دوست کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں پر چلتے جا رہے تھے اور موضوعِ گفتگو ’’اﷲ کی نعمتیں‘‘ تھا۔ وہ اﷲ جو انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ ان گنت نعمتیں دے رکھی ہیں۔ ہاتھ پاؤں سے لے کر دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں تک ۔ چیونٹی سے ہاتھی تک، ہر چیز انسان کی خدمت پر معمور کر دی لیکن انسان تو اپنے رب کا نا شکرا ہے۔ موضوع گفتگو اﷲ کی اُن نعمتوں کی طرف مڑ گیا جو اﷲ نے تمام انسانوں کو دی ہیں۔ کوئی غریب ہو یا امیر، مانگنے والا ہو یا دینے والا، محمود ہو یا ایاز، حاکم ہو یا محکوم سب انسانوں کو دیتا ہے۔ ہاتھ، پاؤں،ٹانگیں، آنکھیں، دل، دماغ قصہ مختصر انسان کے پاؤں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک نعمتوں کا انبار ہے شمار کرنے لگو تو شمار میں نہ آئیں۔ دفعتاً میرے میزبان دوست کو کچھ یاد آیا اور اس نے کہا آئیں ادھر قریب ہی گاؤں میں آپ کو ایک دوست سے ملواتا ہوں ۔ ہم نے تجسس سے پوچھا کسی ایک خاص دوست سے ملوانے کی وجہ، بولے یہ حیرت وہاں ہی دور ہو تو اچھا ہے۔تھوڑی ہی دیر میں ہم اس کے دوست کے گھر تھے۔ اچھا خاصا امیر کبیر نوجوان تھا، کافی بڑی حویلی تھی۔ نوکر چاکر تھے۔ گپ شپ شروع ہوئی تو ہمارے میزبان دوست نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ان صاحب کو پسینہ نہیں آتا، خواہ جتنی مرضی گرمی ہو، ہمارے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی ۔بڑے جثے والے کو تو پسینہ زیادہ آتا ہے ان کوپسینہ نہ آنے کی کیا وجہ؟ پتہ چلا کہ پیدائشی مسام بند ہیں۔ ہم نے ازراہِ مزاق کہا ’’بھائی تم تو بڑی موج میں ہو، گرمیوں میں نہ پسینہ آئے، نہ کپڑے میلے ہوں، نہ جسم سے بد بو آئے‘‘ اس نوجوان کاغصے سے رنگ سرخ ہو گیا، محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اس نے ہماری بات پرکافی غصہ کیا، کافی دیر وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا شاید غصہ قابو کر رہا تھا۔ تھوڑے توقف کے بعد بولا ’’اگر تمہیں اﷲ کی اس نعمت کی قدر ہوتی تو تم کبھی یہ بات نہ کرتے‘‘ ہم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے بلا پسینہ آنا بھی کوئی نعمت ہے لیکن جب اس نوجوان نے اپنا غم سنایا تو تب پہلی بار پسینہ جیسی عام چیز کی قدر ہوئی، وہ بتا رہا تھامیں گرمیوں میں باہر نہیں جا سکتا ، نہ ہی ذرا برابر گرمی برداشت کر سکتاہوں ، جب گرمی پڑتی ہے پورا پورا دن اے سی روم میں لیٹا رہتا ہوں، اگر ذرا سی بھی گرمی لگے تو جلد جلنا شروع ہوجاتی ہے اور اتنی بری حالت ہوتی ہے کہ زمین پر لوٹ پوٹ ہو جاتا ہوں۔اگر کسی ناگزیر صورتحال میں باہر جانا ہی پڑ جائے تو پانی کی بوتلیں ساتھ رکھتا ہوں جس سے اپنے کپڑوں کو گیلا رکھتا ہوں، پسینہ نہ نکلنے سے جو حالت میری ہوتی ہے کہ بعض دفعہ چیخنے چلانے کا دل کرتا ہے۔ ہم نے اس سے معذرت چاہی اور اﷲ سے توبہ واستغفار کی اور اس عظیم عرش والے کا لاکھ لاکھ شکر اداکیاجس نے جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ’’انٹرنل کولنگ سسٹم‘‘ بنایا ہوا۔لیکن کبھی اﷲ کی اس عظیم نعمت کا احساس نہیں ہوا، صرف یہی نہیں اﷲ کی اور کتنی نعمتیں ہیں جن کو ہم کسی کھاتے میں ہی نہیں سمجھتے۔ان کے لیے کبھی اﷲ کا شکر ادا نہیں کرتے۔

اچھرہ لاہور ہم رہتے تھے، قریب ہی صرافہ مارکیٹ تھی ایک بار وہاں ایک جیولرسے ملاقات ہوئی جس کے منہ میں لعاب دہن پیدا نہیں ہوتا، اور اس کی حالت دیکھ کر بہت ترس آیا، حالانکہ وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا، کروڑوں کا کاروبار کرتا تھا، لیکن دنیا کا کوئی ڈاکٹر کروڑوں روپے لے کر بھی اس کے منہ میں لعاب دہن پیدا نہ کر سکا، وہ اپنی زبان کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے مکھن کی ایک ڈبیا ساتھ رکھتا تھا۔وقفے وقفے سے زبان کو مکھن سے تر کرتا ہے اگر وہ ایسا نہ کرے توکچھ وقت کے بعد اس کی زبان تالو کے ساتھ چمٹ جائے یا لکڑی کی طرح سخت ہوجائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس کے لیے بولنا ممکن نہیں رہے گا۔ ہم ایک بار پھر اﷲ کی دربار میں شرمندگی سے کھڑے تھے، کبھی اﷲ کی اس چھوٹی سی نعمت کا شکر بھی ادا نہیں کیا اگر یہ نعمت چھن جائے تو کروڑوں روپے لگانے کے بعد بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہم واقعی ہی بہت ناشکرے ہیں۔ اﷲ نے اسی لیے ہمارے بارے میں قرآن میں ارشاد فرمایا ہے’’ان الانسان لربی لکنود ‘‘بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔پھر یہ بھی فرماتا ہے ’’تم اﷲ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ کبھی سوچا جو اﷲ ہم پر اتنا مہربان ہے، ہمیں دنیا کی ہر نعمت دے رہا اور کوئی معاوضہ بھی نہیں لے رہا، بدلے میں چاہتا کیا ہے بس اسی کے بندے بن کے رہو، دنیا بھی تمہاری اور آخرت میں تمہارا انعام۔ لیکن ہم تو ناشکرے ہیں۔ ہمارا عمل خود اس بات کی گوائی دیتا ہے کہ ہم شکر ادا کم ہی کرتے ہیں۔

ہمارے ایک عزیز ہیں ان پر اﷲ کا بہت کرم ہے، مال و اسباب، کوٹھیاں گاڑیاں سب کچھ ہے، پورا خاندان برطانوی شہریت رکھتا ہے لیکن ان صاحب پراﷲ کی ایک چھوٹی سی آزمائش ہے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں بنتے، یہ نہیں کہ وہ رو نہیں سکتے، بلکہ اگر وہ ہر وقت اپنے ساتھ ’’آئی ڈراپس‘‘ نہ رکھیں اور وقفے وقفے سے قطرے آنکھ میں نہ ڈالیں تو آنکھیں پتھرا جائیں، آنکھیں جھپکنا چھوڑ جائیں، خشک ہو کر بے نور ہو جائیں۔ رات مسلسل دو گھنٹے سے زیادہ نہیں سو سکتے، آنکھیں خشک ہونا شروع ہوتی ہیں، چبھن ہو نے لگتی ہے، مرچیں سی لگتی ہیں، دوبارہ قطرے ڈالیں گے تو کچھ وقت کے لیے سکون ہوگا۔ آنکھوں میں تیرتے پانی کے یہ چھوٹے چھوٹے قطرے انسانی زندگی کے لیے کتنے قیمتی ہیں کبھی ہم نے سوچا۔۔۔۔؟بظاہر ان چھوٹی چیزوں کی ہمیں قدر نہیں، لیکن ان کی قدر تو وہی جان سکتے ہیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں۔بعض لوگوں کی زبان سے ذائقہ محسوس کرنے کی حس ختم ہوجاتی ہے، ان کے لیے یہ دنیا کتنی بے ذائقہ ہوجاتی ہے، ان کے لیے ہر چیز کا ایک ہی ذائقہ ہوتا ہے، کوئی چیز ان کو مزا نہیں دے پاتی، نواع و اقسام کے پھل، رنگے برنگے پکوان ، مزے مزے کی سوغات کچھ بھی مزا نہیں دے پاتے۔ ہم جو ہر چیز کو مزے مزے کے ساتھ کھاتے ہیں کبھی اﷲ کاان نعمتوں پر خاص الخاص شکر ادا کیا ۔ ۔ ۔ ؟ بصارت کتنی بڑی نعمت ہے، اس کی قدر تووہی جان سکتے ہی جو اس سے محروم ہیں۔جو لوگ بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں ان کی دنیا کتنی بے نور و بے کیف ہوجاتی ہے، دنیا کی خوبصورتیاں اور رنگینیاں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔اگر آنکھوں کی بیٹری ختم ہوجائے تو دنیا کے تمام ڈاکٹر ز مل کر بھی وہ بیٹری نہیں ڈال سکتے، خواہ لاکھوں روپے خرچ کر دیں اور اﷲ رب العزت نے وہ بیٹری ہر انسان کو بلا معاوضہ عطا کی ہے اور لائف ٹائم گارنٹی بھی دی ہے۔ کبھی پیسے نہیں مانگے صرف بندگی کا تقاضہ کیا ہے لیکن ہم اس کی ساری نعمتیں استعمال کرنے کے بعد بھی بندگی کرنا تو دور کی بات سرکشی اور بغاوت بھی اسی سے کرتے ہیں۔اپنے آپ پر گھمنڈ کرنے لگتے ہیں۔

سر پر بال کتنے خوبصورت لگتے ہیں لیکن ہمیں اس نعمت کی اس وقت تک قدر نہیں ہوتی جب تک یہ ہمارے پاس ہوتے ہیں اور جوں جوں یہ گرنا شروع ہوتے ہیں ہمیں ان کی قدر ہوتی جاتی ہے ۔ لوگ مصنوعی بال لگوانے کے اسی اسی لاکھ روپے ادا کرتے ہیں کتنی بڑی نعمت اﷲ نے ہمیں مفت میں دی ہے۔لیکن اگر اﷲ کسی کو بچپن سے بال نہ دے تو ہمارا کیا چارہ کار ہے؟ اگرآپ نے کسی شخص کو پاؤں سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہو تو بالیقین آپ کو ہاتھوں کی قدر محسوس ہوئی ہوگی، سڑک پر گھسیٹتے ہوئے جسموں کو اگر آپ نے دیکھا ہے تو یقینا آپ کو ٹانگوں اور پاؤں کی قدر معلوم ہوئی ہوگی۔ اگر کسی کان کٹے یا ناک کٹے انسان کی بدصورتی کو آپ نے محسوس کریں تو ناک اور کان کی قیمت بھی معلوم ہوجائے۔ تیزاب سے جلے چہروں کو دیکھیں تو اپنے بد صورتی کا رونا ہم چھوڑ دیں۔ لیکن یہ سارا کچھ ہونے کے باوجود ہم اﷲ کا شکر ادا نہیں کرتے کیوں کہ ہم ناشکرے ہیں۔۔۔!!