خود احتسابی آپ ہی اپنے محتسب ہیں !!!
اس سے پہلے کہ اللہ تعالی کی عدالت لگے اور سب انسان اپنا اپنا حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں ہر شخص اپنا محاسب خود بن جائے -

انسان کی زندگی میں یہ لمحات کم ہی آتے ہیں کہ وہ خود ہی اپنی عدالت قائم کرے ،خود ہی ملزم ہو اور اپنے ہی خلاف مقدمہ دائر کرے -خود ہی اسکے مختلف پہلوں پر صفائی پیش کرے- خود ہی جج ہو اورخود ہی کو مجرم تابت کرے اور بعض اوقات خود کو بری کر ے -یہ عدالت احساس کی عدالت ہے-

" بل الانسان علی نفسه بصیرہ o و لو القی معا ذ یرہ o" (القیمه -١٤،١٥)
"بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے -"

" یا ایھا الذین امنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد' وتقوا اللہ 'ان الله خبر بما تعملون o " (الحشر- ١٨)
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھےکہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے- الله سے ڈرتے رہو، الله یقینا ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے رہے ہو-"

"عقلمند آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کو تابع رکھے اور موت کے بعد کام آ نے والے اعمال کرے ،عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے لگ جائے اور اللہ سے بھلائی کی امید رکھے "

تاریخ رقہ کا باشندہ " توبہ بن صمعہ اپنے نفس سے روزانہ حسا ب لیتا تھا - ایک مرتبہ تقریبا ساٹھہ سالہ زندگی کے دنوں کا حساب کیا-' اکیس ہزار پانچ سو'، وہ چلا اٹھا، ہائے افسوس اگر مجھہ سے ہر روز ایک گنا ہ ہوا تو میں، اللہ کے حضور کس قدر گناہ لے کر جا ؤں گا حالنکہ ہر روز کئی گنہ ہوجاتے پھر وہ استغفار کرتا ہوا بیہوش ہو کر گر پڑا اور فوت ہو گیا---- لپکو اپنے رب کی مغفرت کی طرف 

اسی طرح اگر ہر شخص اپنے نفس سے ایک ایک سانس کا حساب لے ہر گناہ کے بعد ایک پتھر اپنے گھر میں پھیکنے لگے تو تھوڑی مدت میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائےگا ----- لیکن انسان گناہوں کو بھول جاتا ہے حالانکہ وہ تا بت ہیں الله نے تو گن رکھا ہے اور بندے اس کو بھول چکے ہیں-

Post A Comment: