NotoSansArabicFont

تازہ ترین

latest

سب سے بہتر پڑوسی

*جامع الترمذي # ١٩٤٤* *Jami` at-Tirmidhi # 1944* عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...



*جامع الترمذي # ١٩٤٤*
*Jami` at-Tirmidhi # 1944*
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ» .

The Messenger of Allah said: "The best of companions (friends/associates) in the sight of Allah is the one who is best to his companion; and the best of neighbours in the sight of Allah is the one who is best to his neighbour."

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔“*

معلوم ہوا کہ اللہﷻ کے نزدیک معاملات کے اعتبار سے کسی شخص کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ اس کی لمبی عبادتوں سے نہیں بلکہ اس کے اپنے قریبی لوگوں، دوستوں، کاروباری اور پیشہ ورانہ ساتھیوں، اور پڑوسیوں کے ساتھ اس کے برتاؤ سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان ہمیں سکھاتا ہے آخرت میں سبقت کے خواہشمندوں کو چاہیے کہ اپنے ساتھیوں اور پڑوسیوں کے ساتھ محض برابری کا سلوک نہ کریں، کہ جیسا وہ کریں گے ویسا ہی ہم کریں گے؛ بلکہ پہل کر کے ان کے ساتھ اس سے بہتر برتاؤ رکھیں تاکہ اللہ کے ہاں 'بہترین' کا رتبہ پا سکیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی ان سنہری تعلیمات پر دل و جان سے عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔