صحيح البخاري # ١٤٧١ Sahih Bukhari # 1471 عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ...
صحيح البخاري # ١٤٧١
Sahih Bukhari # 1471
عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا وَجْهَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ .
Narrated Az-Zubair ؓ bin Al-`Awwam: The Prophet (ﷺ) said, “It is better for anyone of you to take a rope (and cut) and bring a bundle of wood (from the forest) over his back and sell it, and Allah will save his face (honour) because of that, rather than to ask the people who may give him or not.”
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اگر (ضرورت مند ہو تو) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اسے بیچے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے، تو یہ اس سے اچھا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، اسے وہ دیں یا نہ دیں۔
_*(لوگوں سے سوال کر کے لینے میں ایک ذلت ہے، اور نہ ملنے میں دو ذلتیں ہیں۔ جبکہ محنت میں عزت ہی عزت ہے خواہ وہ کوئی مزدوری ہو یا کوئی ملازمت۔)
