Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

مساجد کے فضائل واحکام

ا یک علمی بحث اور اس کا جواب  محدثین نے اس حدیث میں یہ اشکال پیدا کیا ہے کہ مسجدِ حرام کے بانی جیسا کہ مشہور ہے، حضرت ابراہیم خلیل...


ایک علمی بحث اور اس کا جواب

 محدثین نے اس حدیث میں یہ اشکال پیدا کیا ہے کہ مسجدِ حرام کے بانی جیسا کہ مشہور ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کہے جاتے ہیں، اور مسجدِ اقصیٰ کے بانی حضرت سلیمانؑ ۔ اور ان دونوں بزرگوں کے درمیان ہزار سال کا بُعد ہے، پھر یہ چالیس سال کی روایت کیوں کر صحیح ہوگی؟

جواب یہ دیا گیا ہے کہ مسجدِ حرام کے بانیٔ اول حضرت آدمؑ ہیں۔ طوفانِ نوح میں یہ گھر اٹھا لیا گیا تھا، اور پھر اسی حالت میں پڑا رہا، تاآں کہ حضرت ابراہیمؑ نے بحکمِ الٰہی اپنے زمانے میں اس کی دیواریں اٹھائیں، جس میں آپ کے شریکِ کار آپ کے لاڈلے فرزند حضرت اسماعیلؑ رہے۔ 

قرآنِ پاک نے اسی طرف اشارہ کیا ہے: *{وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ}*
*ترجمہ۔۔۔۔۔* اور جب اٹھا رہے تھے ابراہیم واسماعیل خانہ کعبہ کی دیواریں۔
*{وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِيْ شَیْئًا}*
*ترجمہ۔۔۔۔۔* اور جب ہم نے بتلا دیا ابراہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔


اور مسجدِ اقصیٰ کے بانیٔ اول بھی حضرت آدمؑ ہی ہیں۔ محققین کا بیان ہے کہ تعمیرِ کعبہ کے بعد آپ کو بیت المقدس جانے کا حکم ہوا تھا، غالباً اسی زمانے میں آپ نے مسجدِ اقصی کی بنیاد رکھی ہوگی۔ حضرت سلیمانؑ بانیٔ ثانی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ دونوں کے مؤسس حضرت آدمؑ ہی ہیں، اور حضرت ابراہیم وسلیمانؑ مجدّد ہیں۔ اس صراحت کے بعد اشکال باقی نہیں رہتا۔

حوالہ۔۔۔۔۔(اسلام نظام مسجد)