Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

توبہ و استغفار

*تحریر: لطف الرحمٰن خان۔اضافہ: محمد عمران خان* کمرہ امتحان میں جب آپ پرچہ حل کرتے ہیں تو عام طور پر آپکے پاس تین گھنٹےہوتے ہیں۔ اس د...


*تحریر: لطف الرحمٰن خان۔اضافہ: محمد عمران خان*


کمرہ امتحان میں جب آپ پرچہ حل کرتے ہیں تو عام طور پر آپکے پاس تین گھنٹےہوتے ہیں۔ اس دوران اگر آپ کو احساس ہو کہ آپنے کسی کسی سوال کا جواب غلط لکھ دیا ہے اور آپ اسمیں ترمیم کرنا چاہیں یا پورا جواب کاٹ کر دوبارہ لکھنا چاہیں تو کوئی آپکو منع نہیں کرے گا۔اسلئے کہ وقفہ امتحان  کے دوران اپنے جوابات میں ہر قسم کی ترمیم اور اصلاح کر نے  کی اجازت ہے۔ البتہ امتحان کا وقت ختم ہونے  کے بعد اپنی کاپی میں کوئی ترمیم یا اصلاح کرنا چاہیں گے تو اسکی اجازت نہیں دی جائے گی اسلئے کہ اسکا وقت اب گزر چکا ہے۔ اسی طرح یہ زمین ہمارا کمرہ امتحان ہے اور اسپر ہماری جتنی بھی زندگی ہےوہ ہمارا وقفہ امتحان ہے۔ اسکے دوران  اگر ہمیں محسوس ہو کہ ہمارا  کوئی عمل غلط ہوگیا ہے اور ہم اسکی اصلاح کرنا  چاہیں تو اسکی اجازت ہے۔ اسی کو ’توبہ‘ کہتے ہیں اور موت سے پہلے پہلے انسان جتنی بھی توبہ کرے اسے اجازت بھی ہے اور ان شاءاللہ اسکی توبہ قبول بھی ہوگی۔ لیکن موت کی گھنٹی بجنے کے بعد اصلاح کی جازت نہیں ملتی اسلئے کہ عمل کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ 

مادی اور اخلاقی دونوں قسم کے اصولوں کے نتائج ظاہر ہونے میں وقت کا عنصر حائل ہوتا ہے۔ البتہ مادی اصولوں کے نتائج اسی دنیا میں ظاہر ہوجاتے ہیں جبکہ اخلاقی اصولوں کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ یہ صورتحال ہماری طبعیت پر گراں گزرتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ادھر آدمی دھوکہ دے اور ادھر آسمان سے فرشتہ اتر کر اسے کوڑے لگادے۔ یہ اس لئے ہے کہ انسان جلد باز ہے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا حلیم اور بردبار ہے۔ اس نے اخلاقی اصولوں کے نتائج کو قیامت تک ملتوی کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسمیں بڑی حکمت و رحمت کا پہلو ہے۔ یہ بات سمجھ لیں تو توبہ کی حکمت ازخود واضح ہوجائے گی۔
 
فرض کریں کسی وقتی جذبہ کے تحت  ایک شخص خود کشی کرنے کے لئے زہر کھا لیتا ہے وہ زہر اسکے پورے بدن میں سرائیت کر جاتا ہے اور اسکے معدہ کی انتڑیاں کٹنے لگتی ہیں، اسوقت تکلیف کے عالم میں وہ کتنا بھی پچھتائے، کتنی بھی شدید خواہش کرے کہ اسے صرف ایک موقع مل جائے پھر وہ آئندہ ایسی غلطی کبھی  نہیں کرے گا۔ تو اب یہ ممکن نہٰں ہے ۔ اسلئے کہ زہر ایک مادی چیز ہے اور اسکا نتیجہ ظاہر ہوکر رہے گا۔ تھوڑی دیر کے لئے سوچیں ، اگر اصول یہ ہوتا ہے کہ کسی وقتی جذبہ کے تحت ایک شخص سے کوئی  اخلاقی غلطی ہوجائے تو وہ چاہے کتنا بھی پچھتائے اور معافی  مانگے ،اسے معاف  نہ کیا جائے، بلکہ سزا ضرور دی جائےتو پھر آپکو کیسا لگتا؟

اگر ہر سزا کی غلطی لازمی ہوتی کہ اس دنیا میں یا آخرت میں ضرور بھگتنی ہے تو پھر انسان میں بد دلی اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہوتی اور اصلاح کا دروازہ بند ہوجاتا۔ اسلئے کہ انسان خطا کا پتلا ہے غلطیاں تو اس سے ہونی ہی ہیں  چنانچہ اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا تھا کہ انسان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور اسے اصلاح کا موقع دیا جائے ۔ یہ آپ جانتے ہیں کہ اپنی غلطی کو تسلیم کئے بغیر یعنی توبہ کئے بغیر اصلاح ممکن  نہیں ہے۔ اسلئے حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ وقفہ امتحان کے دوران  اور موت کی گھنٹی بجنے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ حضورﷺ نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ اسوقت تک قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ  کی کیفیت شروع نہ ہو(ترمذی ، ابن مآجہ)۔ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کے پاس ایک نوجوان چوری کے الزام میں گرفتار کر کے لایا گیا۔ تحقیقات سے جرم ثابت ہوگیا۔ تو اسکا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ۔ نوجوان بہت گڑگڑایا کہ یہ اسکی پہلی غلطی ہے۔ صرف ایک مرتبہ معاف کر دیں آئندہ وہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ تمھاری پہلی چوری نہیں ہے۔ نوجوان اپنی بات پر ضد کرتا رہا اور حضرت عمرؓ اپنی بات پر قائم رہے۔ آخر کار نوجوان نے اعتراف کر لیا کہ یہ اسکی ساتویں چوری ہے۔ چنانچہ سزا پر عملدرآمد کے لئے اسے وہاں سے لے جایا گیا۔ صحابہ کرامؓ چونکہ کشف و کرامات کے قائل نہ تھے اسلئے موقع پر موجود اصحاب نے عمرؓ سے پوچھ  لیا کہ آپکو کیسے معلوم تھا کہ یہ اسکی پہلی چوری نہیں ہے۔ عمرؓ نے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت نہیں ہے کہ وہ بندہ کو اسکی پہلی غلطی پر پکڑ لے وہ بندوں کی غلطیوں کی پردہ پوشی کرکے انھیں اصلاح کا موقع ضرور دیتا ہے ۔ اور یہ نوجوان چونکہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اسلئے مجھے یقین تھا کہ یہ اسکی پہلی چوری نہیں ہوسکتی۔
 
*اضافہ:* یہاں اس مکالمہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ  محمدِ عربی ﷺ نے انکی تعلیم و تربیت کس منہج پر کی تھی ۔انکا مزاج و میلان کیا تھا ۔یہاں صحابہ نے عمر فاروق ؓ کو کسی ولی یا جانشینِ پیغمبر کا عقیدتمندانہ و غلو پسندانہ نہیں درجہ دیا۔نیز خلیفہ ثانی ؓ کا جواب ملاحظہ کیا جائے جسمیں کہیں بھی یہ شائبہ  تک نہیں کہ وہ بعد از نبی اس درجے کے حامل ہیں:’’لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ( ترمذی: حسن حدیث) ۔  یا انھیں کوئی علم لدنی ( حاملِ کشف و کرامت ) حاصل ہے جسکی مدد سے انھوں نے یہ جان لیا ہو ،انھوں نے اپنے علم کو دوسرے مسلمانوں سے الگ نہیں دکھایا   بلکہ قرآن و سنت ہی کو اپنا منبع علم قرار دیا ۔ درحقیقت معلمِ وحی ﷺ نے اپنے پیروکاروں کی تعلیم و تربیت میں  نہ شخصیت پرستی یا اکابر پرستی  کو داخل  ہونے دیا  اور نہ کسی قریب ترین ساتھی و جانشین کو بھی اپنے تئیں ولی اللہ سمجھ کر دیگر سے بلند و ممتاز سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ہونے دیا۔  جسکا ثمرہ تھا کہ وہ دین و دنیا میں کامیاب ترین اور مثالی لوگ ہوئے۔
اس واقعہ کے حوالہ سے ہم لوگ اگر اپنے اپنے ماضی پر نظر ڈالیں تو ہر شخص تسلیم کرے گا کہ ہماری بے شمار غلطیوں کی  اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہے اور یہ بھی تسلیم کرے گا کہ اس کی یہ سنت اسکی صفتِ رحمت کا ظہور ہے اور اصلاح کا موقع دینے کی حکمت کا تقاضا ہے۔ آپ اگر اسبات کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ بھی تسلیم کر لیں کہ مجرموں کا پکڑا نہ جانا اور عدالت سے بری ہوجانا بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کے تحت ہے۔ یہ ذہنی رویہ اختیار مت کریں کہ ایک سہولت یا نرمی جب ہم کو ملے تو اچھی لگے اور جب دوسروں کو ملے تو وہی چیز بری لگنے لگے یہ اللہ کے بندوں کی سوچ نہیں ہے۔ 

توبہ کی رحمت  مومن اور کافر سب کے لئے عام ہے۔ اسبات کو ہم قرآن مجید کے ایک حوالہ سے سمجھیں گے۔اسے ذرا غور سے پڑھیں: ’’آپ ﷺ فرما دیجئے( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنے  آپ پر زیادتی کی ہے  (یعنی گناہ کئے ہیں) اللہ کی رحمت کی آس مت توڑو یقیناً اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے، یقیناً وہی غفورو رحیم ہے۔ اورتم لوگ اپنے رب کیطرف رخ کر لو اور اس کی فرماں برداری کرو اس سے پہلے کہ تم لوگوں پر عذاب آئے ۔ پھر تم لوگوں کی مددد نہ کی جائے ۔ اور تم لوگ اس بہتر بات کی پیروی کرو جو تمھارے رب کیطرف سے تم لوگوں کیطرف نازل کی گئی اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو شعور نہ ہو۔ (ایسا نہ ہوکہ ) کہیں کوئی ذی روح یہ کہے کہ ہائے حسرت اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کی اور یقیناً میں ہنسی اڑانے والوں میں تھا۔ یا وہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقی ہوتا۔ یا جب وہ عذاب کو دیکھےتو کہے کہ کاش مجھے ایک موقع اور ملے تو میں نیکی کرنے والوں میں  ہوجاوں‘‘(الزمر39: 53-58)۔
 
مذکورہ بالا آیات میں سے پہلی آیت کا حوالہ دے کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس آیت کے مقابلے میں ساری دنیا کا لینا بھی پسند نہیں ہے(۔۔لاَ تَقنطُوا مِن رَحمَۃ ِاللہِ)۔ کسی نے پوچھ لیا کہ جنھوں نے شرک کیا ہے انکے لئے بھی یہی حکم ہے؟آپ ﷺ نے پہلے کچھ دیر سکوت فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ سن لو ! جس نے شرک کیا اسکے لئے بھی یہی حکم ہے۔ اور آپ ﷺ نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی(مسند احمد)۔ اسطرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر قسم اور ہر درجہ کے مجرموں اور گناہگاروں کے لئے توبہ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور کسی کے لئے بھی یہ دروازہ بند نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ موت کا عذاب آنے سے پہلے توبہ کر لے اور نافرمانی کی راہ چھوڑ کر اللہ  کی ہدایت اور فرماں برداری کی راہ اختیار کر لے۔ توبہ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہے اور اسمیں بڑی حکمت بھی ہے ۔ نیز یہ کہ یہ رحمت مومون، کافر ، مشرک، منافق سب  کے لئے ہے۔
 
آگے بڑھنے سے پہلے توبہ کی شرائط سمجھ لیں: اولاً یہ کہ اپنی غلطی پر  بندے کے دل میں واقعی شرمندگی  اور پچھتاوے کے جذبات موجود ہوں۔ ثانیاً یہ کہ دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنے کا  پختہ عزم اور ارادہ ہو اور ثالثاً یہ کہ اپنی غلطی پر اپنے رب سے معافی مانگے۔ انمیں سے کوئی ایک شرط بھی کم ہوگی تو وہ توبہ نہیں ہے۔ پھر چاہے بندہ استغفار کی ایک ہزار تسبیح پڑھے یا ایک لاکھ پڑھ ڈالے یہ وہ توبہ نہ ہوگی جسکا قرآن و حدیث میں ذکر ہے۔ ہاں !   ان تینوں شرائط کے ساتھ بندہ اگر صرف تین مرتبہ ہی استغفار  پڑھے  تو یہ بڑے اجروثواب کی بات ہوگی۔  انسان اگر صحیح معنوں میں توبہ کرے تو حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا گناہگار بندہ بالکل اس بندے کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو(ابن ماجہ ، البہیقی)۔مطلب یہ ہے کہ سچی توبہ کے بعد گناہ کا کوئی اثر یا داغ دھبہ باقی نہیں رہتا۔ اور دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کو بے حد  خوشی ہوتی ہے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنےوالا بندہ اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ بن جاتا ہے۔ اسطرح یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ بندہ کی سچی توبہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ 

ایک شخص سچی توبہ کرتا ہے جسمیں یہ پکا ارادہ بھی شامل ہے کہ آئندہ وہ غلطی نہیں کرے گا۔ لیکن فرض کریں کہ بشری تقاضا کے تحت اس سے وہی غلطی دوبارہ ہوجاتی ہے یا کوئی دوسری غلطی ہوجاتی ہے تو اسکے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوگا۔ اسے چاہیے کہ وہ پھر سچی توبہ کرے ۔ اسطرح وہ زندگی میں جتنی مرتبہ بھی سچی توبہ کرے گا اسکی ہر توبہ قبول ہوگی۔ ایسا کیوں ہے اسکی وجہ ہمیں حضور ﷺ نے ہمیں بتادی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدم ؑ کی تمام اولاد بہت خطاکار ہے ۔ اور خطا کرنے والوں میں وہ بہت اچھے ہیں جو بار بار توبہ کرتے ہیں(ترمذی ، ، ابن ماجہ، دارمی)۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ انسان کی معراج یہ نہیں ہے کہ اس سے کوئی غلطی نہ ہوبلکہ انسان کی معراج یہ ہے کہ اس سے جب بھی غلطی ہوجائے تو وہ اپنی غلطی تسلیم کرے اور سچی توبہ کرے۔
 
اوپر ہم نے کہا ہے کہ بار بار سچی توبہ کرنے والے کی ہر توبہ قبول ہوگی ۔ اسبات کی خبر بھی ہم کو نبی کریم ﷺ دے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ اللہ کے کسی بندے نے کوئی گناہ کیا ۔ پھر اسنےکہا اے میرے رب مجھ سے گناہ ہوگیا پس تو معاف کردے۔ تو اسکے رب نے فرمایا کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اسکا ایک رب ہے۔ وہ گناہ معاف بھی  کرتا  ہے اور اسپر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کیا ۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا وہ گناہ سے رکا رہا۔ پھر اسنے ایک گناہ کیا ۔ تو اسنے کہا اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے پس تو معاف کردے۔ تو اسکے رب نے فرمایا کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اسکا ایک رب ہے۔ وہ گناہ معاف بھی  کرتا  ہے اور اسپر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کیا ۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا وہ گناہ سے دورر ہا۔ پھر اسنے ایک گناہ کیا ۔ تو اسنے کہا اے میرے رب میں نےایک دوسرا گناہ کیا ہےپس تو اسکو بھی میرے لئے معاف کردے۔ تو اسکے رب نے فرمایا کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اسکا ایک رب ہے۔ وہ گناہ معاف بھی  کرتا  ہے اور اسپر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کیا ۔پس جو اسکا جی چاہے وہ کرے(بخاری و مسلم )۔اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ توبہ اگر سچی ہو تو پھر چاہے جتنی بھی ہو۔ ہر توبہ قبول ہوتی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ اب جو اسکا جی چاہے کرے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دو تین مرتبہ   توبہ کرنے کے بعد پھر اگر کوئی غلطی ہوتو  اب توبہ کرنےکی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسا سوچنا بہت بڑی بھول ہوگی ۔ اس حدیث کے سیاق و سباق میں رکھکر  اس آخری جملے پر غور کریں تو ہمارا ذہن انسانی نفیسات کی ایک حقیقت کی طرف منتقل ہونا چاہئے ۔ اگر غلطی پر شرمندہ ہونا اور دوبارہ غلطی نہ کرنے کا عزم کرنا، اور تسلسل کے ساتھ اس مشق کو جاری رکھنے کا اثر انسان کی شخصیت پر مرتب ہوتا ہے۔ یہ حقیقت سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوچکی ہے ۔ چنانچہ اس مشق کا یہ اثر ہوتا ہے کہ انسان رفتہ رفتہ اپنی خطا کرنے کی کمزوری پر قابو پانا شروع کرتا ہے اور دن بدن اسکا تقویٰ کی روش زیادہ قوی ہوتی رہتی ہے۔ نتیجتاً غلطیاں کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ خطاکار بنی آدم سے اسکا خالق اسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ غلطیوں سے بالکل پاک ہوجانا نہ تو ہمارے بس میں ہے اور نہ تو ہمارے رب کا مطالبہ ہے۔ اس ضمن میں  ایک حدیث کا حوالہ ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایک اور مخلوق پیدا کرے گا وہ لوگ گناہ کریں گے اللہ تعالیٰ انکو معاف کرے گا(مسلم)۔
 
استغفار توبہ کی تیسری  لازمی شرط کو کہتے ہیں۔ یعنی کسی غلطی پر شرمندگی کے احساس اور دوبارہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے عمل کو استغفار کہتے ہیں۔ البتہ اسکا ایک اضافی پہلو بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بندہ کوئی نیک کام کرتا ہے ۔ کام کرنے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ جسطرح اسے یہ کام کرنا چاہئے تھا اسطرح وہ نہیں کرسکا یعنی وہ اس نیک کام  کا حق ادا نہیں کرسکا۔ اس کمی  اور کوتاہی پر اس شرمندگی کا احساس اور دوبارہ بہتر انداز میں کرنے کے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے عمل کو بھی استغفار کہتے ہیں۔
 
ہم لوگوں میں یہ ایک عام خیال ہے کہ توبہ اور استغفار گناہگاروں کا کام ہے۔ لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خیال درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہم سے کہیں زیادہ استغفار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انبیأ کرام ؑ کا بھی یہ معمول رہا ہے ۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ جیسے جیسے بندے کو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا عرفان ہوتا ہے اسکا یہ احساس گہرا ہوتا رہتا ہے کہ بندہ اس کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔ اسکی حقیقت کا سب سے زیادہ واضح ادراک ہمارے نبی ﷺ کو حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ کی متعدد احادیث میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ ﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ نماز پڑھ کر بھی استغفار کیا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ استغفار کہتے تھے۔
 
سورۃ النصر میں اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ کسی کو شش کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں آجائے تب بھی یہ مت سمجھو کہ تمھاری کوشش کمی کوتاہی سے پاک تھی ۔ کیونکہ یہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوئی ہے۔ اسلئے اپنی کوشش میں کمی کوتاہی کا اعتراف کرو اور استغفار کرو۔
 
*اضافہ:* اسلام میں لوگوں کے فوج در فوج داخل ہونے کا مطلب یہی تھا کہ آپ ﷺ کو جس کام کے لئے  نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا گیا تھا وہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے ۔ لہذا آپ ﷺ اب اللہ کی حمد و ثناء میں مشغول ہوجائیں کہ جس کے فضل و رحمت سے آپ نے یہ بے مثال فریضہ انجام دیا ہے۔ نیز دعا کریں کہ اس کارِ عظیم  کے دوران جو بھول چوک یا کوئی کوتاہی بھی ہوئی اسے معاف کر دیا جائے۔اگر کسی رہنما کو کوئی عام کامیابی بھی ملتی ہے تو  وہ اور اسکے پیروکار اسکا اظہار جشن منا کر کر تے ہیں اور اپنی قیادت پر فخر کرتے ہیں  لیکن  یہاں ایک فقید المثال انقلاب ( incomparable revolution)   برپا کردینے پر بھی نبی کو جشن  وتہوار منانے کے بجائے اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیح و تحمید کا حکم دیا جاتا ہے یہ وہ رویہ ہے جو اسلام کو دیگر فکرو منہاج  سے جداا ور ممتاز کرتا ہے  اور پیروکاروں کی ایک ایسی جماعت تیار کرتا ہے جنکا مطمع نظر  اپنا ذاتی مفاد نہیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ :

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں  اسی لئے نمازی
 
زوجہ نبی ﷺ حضرت عائشہ ؓ  کا بیان ہے کہ : نبی ﷺ اپنی وفات سے قبل  سبحٰنک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپ نے اب پڑھنے شروع کر دیئے ہیں ؟ فرمایا: میرے لئے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے اذا جآءَ نصر اللہ والفتح ( مسند احمد، ابن جریر) ۔نیز اس توبہ استغفار کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ ہر قسم کے گناہوں سے بالکل پاک و معصوم تھے، اور اگر آپ کی شان کے لحاظ سے کوئی بھول چوک ہوئی بھی تو سورۃ فتح(2: 28) میں اللہ تعالیٰ نے اسکو بھی معاف فرما دیاتھا، اسکے باوجود آپ ﷺ کو استغفار کی تلقین  امت کو یہ بتانے کے لئے کی جارہی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے استغفار کرنے کے لئے کہا جارہا ہے تو دوسرے مسلمانوں کو تو اور زیادہ اہتمام  کے ساتھ استغفار کرنا چاہئے۔
 
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو استغفار کو لازم پکڑ لے تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے ہر تنگی اور مشکل سے نکلنے کا راستہ بنادے گا اور ہر فکر اور پریشانی سے اطمینان دے گااور اسکو وہاں سے رزق دے گا جسکا اسکو گمان بھی نہ ہوگا( مسند احمد ، ابو داؤد، ابنِ ماجہ) ۔حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قبر میں مردہ  اس شخص کی مانند ہے جو ڈوب رہا ہو اور مدد کے لئے پکار رہا ہو ۔وہ اپنے باپ ماں یا بھائی یا کسی دوست کی دعائے مغفرت  کے پہنچنے کا اتنظار کرتا ہے تو جب وہ اسے پہنچتی ہے تو وہ اسے دنیا اور مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتی ہے(بہیقی)۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ۔ پھر آپ ﷺ نے سورۃ الانفال کی آیات نمبر 33تلاوت کی کہ ’’ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ ﷺ انمیں  موجود ہوں اور وہ انکو عذاب دے اور انکو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ استغفار کرتے ہوں‘‘ ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جب میں گزر جاوں گا تو استغفار کو قیامت تک کے لئے بطور امان چھوڑ جاوں گا(ترمذی) ۔