Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

صدقہ کا بہترین اصول

گذشتہ سال اکتوبر(2017ء)  میں  بندہ  حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم  کے دفتر میں بغرضِ ملاقات موجود تھا۔ اس دور...



گذشتہ سال اکتوبر(2017ء)  میں  بندہ  حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم  کے دفتر میں بغرضِ ملاقات موجود تھا۔ اس دوران ایک صاحب آئے جو  لاہور سے حضرت والا دامت برکاتہم سے ملنے  آئے  تھے، انہوں نے مختلف  سوالات کئے حضرت والا دامت برکاتہم  جواب دیتے رہے۔ ایک سوال انہوں نے یہ  پوچھا کہ صدقہ کرنے   کی کیا ترتیب ہونی چاہئے؟ اس کی بہتر  صورت کیا  ہے؟ 

حضرت والا دامت برکاتہم  نے فرمایا : *’’کہ  بزرگوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ اپنی آمدنی میں سے کچھ حصہ مخصوص کر دیا جائے مثلاً  ایک فیصد یا دس فیصد، جتنی استطاعت ہو، اس حساب سے  متعین کر لیا جائے اور پھر  وہ اتنا پیسہ  صدقہ  کے طور پر دے دیا جائے‘‘*

آج *’’نمونے کے انسان‘‘* نامی کتاب دیکھتے ہوئے اس  میں البلاغ مفتیٔ اعظم نمبر کے حوالے سے   بزرگوں کے اختیار کردہ اس اصول کی کچھ مثالیں ملیں، البلاغ مفتی اعظم کی طرف مراجعت کی تو    اس کی اہمیت مزید واضح ہوئی۔
البلاغ مفتی اعظم نمبر کی پہلی جلد میں مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنے تاثراتی مضمون   *’’میرے والد میرے شیخ‘‘* میں رقمطراز ہیں:

’’حضرت والد صاحب   رحمہ اللہ کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا بڑا ذوق تھا، اور آپ مصارفِ خیر میں حصہ لینے کی کوشش میں رہتے تھے۔.....انفاق کا یہ معمول تنگی و فراخی ہر حالت میں  جاری رہا۔ اور اس کیلئے *جو طریقِ کار اپنایا ہوا تھا وہ بڑا سبق آموز اور لائقِ تقلید ہے۔*

آپ کا معمول یہ تھا کہ زکوۃ ادا کرنے کے علاوہ آپ کے پاس *جب بھی کوئی رقم آتی تو اس کا ایک معین حصہ فوراً مصارف خیر میں خرچ کرنے کے لئے علیحدہ فرمالیتے،* اور طے کیا ہوا تھا کہ آمدنی اگر محنت سے حاصل ہوئی ہے تو بیسواں حصہ (پانچ فی صد)اوراگر کسی محنت کے بغیر حاصل ہوئی ہے(مثلاً انعام،ہدیہ،تحفہ وغیرہ) تو اس کا دسواں حصہ فوراً علیحدہ نکال لیاجائے،.............صندوقچی میں ایک تھیلا آپ کے پاس ہمیشہ رہتا تھا،جس پر ’’صدقات و مبرّات‘‘  لکھا رہتا تھا،تنگ دستی کا زمانہ ہو یا فراخی کا،آمدنی کا مذکورہ حصہ آپ فوراً اس تھیلے میں رکھ دیتے تھے،اور جب تک یہ حصہ ’’صدقات ومبرات ‘‘کے تھیلے میں نہ چلاجاتا،اس وقت تک اس آمدنی کو استعمال نہیں فرماتے تھے،اگر دس روپئے بھی کہیں سے آئے ہیں تو فوراً اس کے چھوٹے نوٹ بدلوا کر ایک روپیہ اس تھیلے میں رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے۔(البلاغ مفتی اعظم نمبر۔ج۱ ص۴۵۹)

اسی طرح البلاغ مفتی اعظم نمبر کی دوسری جلد  میں  حضرت مفتی عبدالرووف سکھروی  مدظلہم کے والدِ مکرم حضرت مفتی عبدالحکیم صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  اپنے مضمون ’’ حضرت مفتی ٔ اعظم کا اندازِ تربیت‘‘ میں حضرت کے ملفوظات نقل کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

’’نماز کی ادائیگی کی ظاہری و باطنی اصلاح کرے  اور کچھ نہ کچھ انفاق بھی کیا کرے۔ *حضرت مولانا تھانوی ؒ اپنی کمائی کا ایک تہائی خیرات کردیا کرتے تھے* اور حضرت *مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب  ؒاپنی کمائی کا ایک خمس(یعنی پانچواں حصہ) خیرات کرتے تھے۔* حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب کو دیکھا کہ ان کے پاس تین چپاتیاں آتی تھیں،ان میں ڈیڑھ چپاتی خود تناول فرماتے ایک چپاتی خیرات کردیتے تھے اور آدھی کسی کو ہدیہ کردیتے تھے ۔(البلاغ مفتی اعظم نمبر۔ج۲ ۔ ص۸۹۱)

اس ساری بات سے اس طریقِ کار کی اہمیت کا اندازہ ہوا، حضرت شیخ الاسلام صاحب اس طریقِ کار  کا مشورہ دے رہے ہیں، حضرت مفتیٔ اعظمِ پاکستان  اسے لائقِ  تقلید قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی بزرگوں نے طرز اپنا نے کا اہتمام کیا۔
ویسے تو ہر شخص صدقہ کی اہمیت سے واقف ہوتا ہے  اور کچھ نہ کچھ صدقہ کرتا ہی رہتا ہے لیکن اس التزام اور اس طرح کی پابندی کا فائدہ یہ ہوگا کہ ساری کی ساری آمدنی  مکمل طور پر صدقے کی چھلنی سے چھن کر آئے گی اور گویا کہ انسان  کے پاس جو کچھ بھی آ رہا ہے، اس کے ایک ایک پیسے کا صدقہ دیا جا رہا ہے، اس طریقِ کار  سے برکت بھی ہوگی اور صدقہ کا اہتمام بھی رہے گا کیونکہ  کوئی وقت ایسا نہیں  ہوگا کہ جب اس کے  پاس مال آیا ہو اور اس نے اس کا صدقہ نہ دیا ہو۔

اگر انسان زیادہ  اوسط متعین نہیں کرسکتا تو کل آمدنی کا ایک فیصد ہی متعین کرلے یعنی کہ *اگر کسی کی  ماہانہ آدنی  مِل ملا کے بیس ہزار روپے بنتی ہو   اور اس نے ایک فیصد صدقہ متعین کیا ہوا ہے تو کل 200 روپے بنیں گے۔* اب ہوسکتا ہے کہ وہ  ماہانہ بنیاد پر    مذکورہ رقم سے زیادہ ہی  صدقہ کیا کرتا ہو لیکن اگر یہ طریقہ اپنا لیا تو ہر ہر رقم میں سے صدقہ کشید ہو کر  وہ آمدنی پاکیزہ اور بابرکت ہوتی جائیگی۔ اور صدقہ میں بھی کبھی تعطل نہیں آئے گا۔

اگر اس طریقِ کار پر عمل کر لیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قوی امید ہے صدقے کے ظاہری و باطنی فوائد پوری طرح حاصل ہونگے اور مال کی محبت بھی دل میں جگہ نہ بنا پائے گی۔
دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔