Page Nav

TRUE

Left Sidebar

False

تازہ ترین

latest

Aulia- Allah kay baray main

مشہور تابعی حضرت عامر بن قیس ؒ اپنی آستین میں دو ہزار درہم خیرات کے لیے لے کر نکلتے اور راستے میں ملنے جلنے والے ہر سائل کو گنے بغیر اس میں ...

مشہور تابعی حضرت عامر بن قیس ؒ اپنی آستین میں دو ہزار درہم خیرات کے لیے لے کر نکلتے اور راستے میں ملنے جلنے والے ہر سائل کو گنے بغیر اس میں سے دیتے جاتے، پھر جب گھر واپس لوٹتے تو ان دراہم کی تعداد اور وزن میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اسی طرح قافلہ کے پاس سے آپ کا گزر ہوا جس کو ایک شیر نے روک رکھا تھا۔ آپ نے شیر کے پاس جاکر اپنے کپڑے سے اس کامنہ پکڑا اور اس کی گردن پر اپنا پیر رکھ کر فرمایا ''تو اللہ کے کتوں میں سے ایک کتا ہے اور مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اس کے سوا کسی اور چیز سے ڈروں'' اور یوں قافلہ گزر گیا۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کے لیے سردی میں وضو کرنا آسان ہوجائے۔ چنانچہ اس کے بعد ان کے پاس جو بھی پانی پیش ہوتا اس سے بھاپ نکلتی رہتی۔ 


بزرگوں کے واقعات سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا ہے لیکن نیک لوگوں کے واقعات سے بصیرت ضرور حاصل ہوتی ہے۔

اس بات سے ہم سب ہی واقف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ابنیاء کرام ہی معصوم کے درجے پر فائز ہیں۔ بقیہ تمام لوگ غلطی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ ہمارے علماء دین بھی بشر ہیں اور ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور کوتاہی بھی۔ لیکن اپنے ذاتی مفادت حاصل کرنے کے لیے علماء دین یا کسی مکتبہ فکر کی تضحیک، سب وشتم ایک شیطانی عمل ہے۔ اختلاف رائے بالکل کیا جاسکتا ہے لیکن اپنے بارے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ علماء دین کی اِس تذلیل وتضحیک