میرے استاد نے جرمنی سے تعلیم حاصل کی وہ کہتے ہے کہ شام کو میں آفس میں نوکری بھی کرتا تھا جس آفس میں کام کرتا تھا اس آفس میں میرے ساتھ والے کاونٹر پہ ایک لڑکی بیٹھتی تھی ۔۔ ایک دن وہ دیر سے آفس پہنچی اور بہت پریشان دکھائی دے رہی تھی میں نے پوچھا کیا کوئی مشکل دریش ہے کہتی ہے کہ 

" میں اپنے والد کے ساتھ مکان میں رہتی ہوں میرے والد مجھ سے بہت زیادہ کرایہ وصول کرتے ہیں کچھ دنوں سے ایک آدمی نے انکو زیادہ کرایہ آفر کردیا ہے رہنے کے لیے۔ میرے باپ نے کہا کہ گھر میں رہنے کے یے یا تو تم بھی کرایہ بڑھاو یا پھر میں دوسرے آدمی سے معاملات نمٹا دیے دیتا ہوں میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری سالانہ ترقی آنے والی ہے اسکے بعد میں بھی زیادہ کرایہ آپ کو دینے لگوں گی دو روز پہلے میرے والد آے اور کہا کہ میں نے اس آدمی کے ساتھ معاملات طے کرلیئے ہیں لہذا تم اب اپنے لیے رہنے کی جگہ کا انتظام کسی اور جگہ کردو مجھے نیئے مکان کا بندوبست کرکہ سامان شفٹ کرنا پڑا جس کی وجہ سے میں بہت تھکی ہوئی ہو اور پریشانی کے حالت میں آفس پہنچی ہوں۔

اب آتے ہیں ہم اپنے اسلامئ معاشرے کی طرف۔ ایک مغربی معاشرہ جہاں باپ اور بیٹی میں کتنی محبت ہوتی ہے ۔ اور دوسری طرف اسلام کی برکتیں تو دیکھئیں کہ اسلام نے بیٹی کو جہنم کی آگ سے پروانہ قرار دیا ہے جب بیٹی شادی کرکہ اپنے گھر سے رحصت ہوتی ہے۔ باپ اپنی بیٹی کو اپنی زندگی بھر کی ساری کمائی تو پہلے ہی پیش کرچکا ہوتا ہے پھر اس موقع پر باپ کے آنکھوں سے آنسو بھی آرہے ہوتے ہیں ، ماں بھی رو رہی ہوتی ہے بھائی اور بہینیں بھی روتی ہے کہ بہن آج جا رہی ہے۔ وہ منظر بتاتا ہے کہ دلوں میں پیارہے دلوں میں محبتیں باقی ہے۔ اتنا پیار دنیا میں بیٹی کو کہاں نصیب ہوا تھا جو آج اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی وجہ سے ایک باپ اپنی بیٹی کو پیش کررہا ہوتا ہے۔

اب آپ ان دونوں میں فرق خود کرسکتے ہیں
ــــــــــــــــــــــــــ

Post A Comment: