ایک  پیر صاحب اپنے ایک مرید کے ہمراہ انگلینڈ کے دورے پر تشریف لائے۔
 جب وہ واپس آزاد کشمیر پہنچے تو مرید نے لوگوں سے کہا کہ اپنے پیر صاحب کی کرامتیں تو ہم نے گوروں کے ملک میں دیکھی ہیں۔ جب ہم ہیتھرو ائیر پورٹ سے نکل رہے تھے اور واپسی پر جب ائیر پورٹ کے اندر گزر ہو رہا تھا تو قبلہ پیر صاحب جہاں سے بھی گزرتے، بند دروازہ حضرت کو دیکھ کر خود بخود کھل جاتا تھا۔ پیر صاحب کو دیکھ کر سیڑھیاں خود حرکت میں آ جاتیں جن پر کھڑے ہوکر پیر صاحب مع یہ خاکسار مرید اوپر نیچے چلتے جاتے۔ نیز ائیرپورٹ کے اندر کئی کئی فرلانگ کی سڑک سی چل پڑتی جس پر پیر صاحب اور مریدین کھڑے ہوکر سفر کرتے رہتے۔ اور تو اور مارے حیرانی کے میری تو سٹی ہی گم ہوگئی یہ دیکھ کر کہ پیر صاحب اپنا بابرکت ہاتھ شریف استنجا اور طہارت کے لیے جونہی پانی والے نل کے قریب بڑھاتے تو نہایت آہستگی مگر ناقابلِ بیان سرعت کے ساتھ آب رواں سا جاری ہو جاتا.....(حافظ صفوان)

Post A Comment: